آنکھیں دل کی کھڑکیاں ہوتی ہیں

eyes are hearts window

اچھا اپنی توجہ ادھر کریں ذرا ، اکثر ہم نے نوٹ کیا ہو گا کہ اگر کسی گھر کا، یا کسی کمرے کا دروازہ ، کوئی کھڑکی کھلی ہوئی ہو تو لا شعوری طور پر، نہ چاہتے ہوے بھی نگاہ اندر چلی جاتی ہے. اسکی بنیادی وجہ انسان کا تجسس ہے جو ایک فطری عمل ہے. اگر دروازہ ، کھڑکی بند ہو گی تو نظر بھی نہیں پڑتی۔

آپ غور کریں کہ ہمارے جسم کے بھی کئی دروازے ہیں کسی سے ہم ہوا کو اندر جانے دیتے ، کسی سے ہم آواز کو اندر جانے دیتے، کسی سے ہم خوراک اندر لے کر جاتے. اگرچہ، دھیان تو ہمیں سب دروازوں کا رکھنا چاہئے کہ کیا کچھ اندر جاتا ہے۔ لیکن ابھی بات سمجھانے کو صرف ایک کا ذکر کر رہا ہوں ، اور وہ ہے آنکھیں۔ یہ آنکھیں اس لئے بھی اہم ہیں کہ یہ ہمارے دل کی کھڑکیاں ہوتی ہیں. ہم جو دیکھتے اس کا اثر ہمارے دل پر ہوتا ہے . اچھی نظر کا اچھا اور بری نظر کا برا اور اتنا برا کہ دل پر کالا داغ پڑنا شروع ہو جاتا وغیرہ وغیرہ۔

جو لوگ یہ کہتے کہ صرف دماغ مضبوط ہو یا سوچ اچھی ہونی چاہے بس، وہ صرف ایک بات بتا دیں جب آپ دکان پر کوئی چیز خریدنے جاتے ہے اپنی اچھی سوچ کے ساتھ تو ہم یہ کیوں کہتے ” نہیں بھائی وہ والی دیکھیں وہ زیادہ اچھی لگ رہی” یا یہ” کہ بس مجھے یہی پسند ہیں باقی نہیں”۔ آپ کی جب سوچ اچھی تو کچھ بھی لے لیں پسند، نہ پسند کیوں پھر؟؟؟؟….تو جناب اسکی وجہ صرف یہ کہ آپ کے دل نے آپکی آنکھوں کے راستے دیکھ کر فیصلہ کیا آپکی پسند کا، کہ ہم دل کے ہاتھوں ویسے بھی بہت مجبور ہوتے ہیں۔

اسی طرح دوستو، ہم مردوں کی سوچ چاہے جتنی بھی اچھی ہو جائے مگر جب آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو ہمارے دل فیشن، سٹائل، ادا، چال، ڈھال، خوبصورتی ، ہوس وغیرہ کے چکر میں ضرور پر جاتے ہیں ،  دماغ کو الٹے سیدھے پیغام بجھوا کر اسے بھی اپنے جیسا کر لیتے اور پھر دماغ ہمیں وہ وہ برائی کے طریقے بتاتے کہ بس،  تبھی ہم مردوں کو پہلے نظر نیچی رکھنے کا کہا گیا ہے اور پھر خواتین کو پردے کا بھی۔

اور آخر میں اتنا  ہی، کہ گھر جتنا زیادہ خوبصورت ہو گا اس کو دیکھنے والی آنکھیں بھی اتنی ہی زیادہ ہوں گی.۔یہ جو ہم دیواریں کرتے ہیں نا، اسی لئے کرتے کہ گھر کے اندر کا حسن کھل کر باہر نظر نہ آے۔ اسی طرح خواتین بھی پردے میں ہی محفوظ ہوتی ہیں چاہے باہر جتنے بھی اچھی سوچ کے لوگ گھوم رہیں ہوں تو پھر بھی لا شعوری طور پر، نہ چاہتے ہوے بھی نگاہ چلی جاتی ہے۔

تحریر : میاں جمشید