دیکھنے کے لئے صرف آنکھیں ہونا ضروری نہیں

urdu blog jamshed

ذرا سوچیں کہ آپ ایک مکمل انسان ہے اور دیکھنے کے لئے آنکھیں بھی ہیں جن سے ہمیشہ آپ کوئی بھی چیز آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ذرا رکیں اور غور کریں کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے؟

چلیں ایک تجربہ کر کے دیکھیں اور خود کو کسی اندھیرے کمرے میں لے کر جائیں اور محسوس کریں کہ آپ آنکھیں ہونے کو باوجود کیوں نہیں دیکھ پا رہے؟ نظریں جب ٹھیک ہیں تو پھر یہاں آ کر ہم اندھے کیوں بن گئے ہیں؟

تو جناب بات یہ ہے کہ ہمارے دیکھنے کے لئے صرف آنکھوں یا نظر کا ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ ساتھ ہی باہر کی” روشنی” کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے، چاہے وہ روشنی سورج و چاند کی ہو یا کسی روشن بلب کی ۔

اسی طرح ہماری زندگی میں بھی کبھی کبھی اچانک اندھیرا آ ہی جاتا ہے، کبھی پریشانی کی صورت میں ، غم و دکھ، جدائی وغیرہ اور پھر ہم باصلاحیت انسان ہونے کے باوجود رک جاتے ، ڈر جاتے ، رو پڑتے یا اداس ہو جاتے ہیں۔ تب ہمیں اس صورت حال سے نکلنے کے لئے کسی راستے کی تلاش ہوتی ہے جو صرف آس پاس روشنی ہونے کی صورت میں ہی واضح دکھائی دے گا.

آپ اس بات کو لازمی سمجھیں کہ جس طرح ہم کو ہمیشہ دیکھنے کے لئے روشنی کا انتظام رکھنا پڑتا ہے تو ٹھیک اسی طرح ہمیں اپنے آپ کو “اچھے لوگوں ، اچھی باتوں، کتابوں اور مثبت سوچوں” کے حصار میں رکھنا پڑتا ہے تاکہ کسی پریشانی کے اندھیرے میں یہ سب ہمارے لئے روشنی کا سبب بنیں۔

تو جناب مشکلات میں کسی اپنے اور مثبت لوگوں سے لازمی مشورہ کیا کریں ۔ اس کے علاوہ کتابوں و آرٹیکلز کی مفید باتوں سے مدد لیں ۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ آپ کو کوئی اچھا، اپنا، سمجھنے والا، مشورہ و حوصلہ دینے والا نہ ملے۔ اگر واقعی کوئی ایسا نہیں ہے تو پھر آپ خود پے غور کریں کہ کیا آپ اس قابل ہیں کہ کوئی آپ کا اپنا بنے؟

اور اگر اپنے آپ میں کوئی کمی و کوتاہی نظر آے تو اس کو دور کریں ۔ ” میں نہیں مانتا، میں ہی ٹھیک ہمیشہ، میرا کوئی قصور نہیں” وغیرہ والی فضول انا پرست سوچ و اپروچ سے خود کو دور رکھیں۔

اور آخر میں صرف اتنا ہی کہ یقین مانیں سب سے بہتر روشنی ایمان کی ہوتی ہے جو آپ کے اندر سے نکل کر باہر کے ماحول کو بھی منور کر دیتی ہے اور یہ صرف رب پر مکمل یقین کی صورت میں ہی حاصل ہوتی ہے. پھررب آپ کو ایسے” نائٹ ویژن گلاسز” عطا کرتا ہے کہ مکمل اندھیرے میں بھی نظر آنا شروع ہو جاتا ہے اور جس میں آپ خود تو دیکھتے ہی ہیں، ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی راستہ دکھاتے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔

 تحریر : میاں جمشید