سیلز گرل کال گرل نہیں ہوتی

sales girls are not call girls

پاکستان میں شاپنگ مالز کی تعداد میں مسلسل اضافہ سے نوجوانوں کے لئے روزگار کا پیدا ہونا نہایت خوش آیند بات ہے ۔ خاص طور پر سٹوڈنٹ طبقہ جو پارٹ ٹائم جاب کا خواہش مند تھا ان کے لئے بھی اب کسی شاپنگ مال میں سیلز بواے یا سیلز گرل کی جاب ملنا آسان ہو گیا ہے، خاص طور پر جب شاپنگ مال اور برانڈز اسٹور بننے کا رحجان بڑے شہروں سے چھوٹے شہروں میں بھی منتقل ہوتا جا رہا ہے ۔

شاپنگ مال میں چلتے پھرتے لوگوں کو یا گھروں میں جا کر مختلف برانڈز کی پروڈکٹس کا تعارف کروانا بھی ایک اچھی جاب ہے۔ جس کے لئے مختلف برانڈز زیادہ تر سیلز گرل کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ لڑکیوں کو بھی آسان روزگار کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان کو باقاعدہ ٹریننگ کے ذریعے ڈریسنگ کرنے ، لوگوں کو مخاطب کرنے، سوال و جواب ، پروڈکٹ کی معلومات سمیت تمام بنیادی باتیں کی آگاہی دی جاتی ہے اور پھر ان کو شاپنگ فلور پر یا فیلڈ ورک میں بجھوایا جاتا ہے ۔

یہاں تک کی میری تمام بات چیت کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو بتا سکوں کہ سیلز گرل کی جاب کوئی غیر معیاری نہیں بلکہ یہ بہت ہی پروفیشنل اور ترقی کرنے والا شعبہ ہے ۔ اچھی پبلک ڈیلنگ کرنے والی سیلز گرلز مارکیٹنگ ، سیلز ، کسٹمر سروسز سمیت برانڈز کے دیگر ڈیپارٹمنٹس میں اپنا کیریئر بناتی جاتی ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے ہمارے ہاں ان سیلز گرلز کو گھر سے اپنے ورکنگ ایریا تک ان غلط سوچوں اور نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔

میرا اپنا ذاتی تجربہ یہ رہا کہ خاص کر جب چھوٹے شہروں میں بے روزگار خواتیں کو کسی شاپنگ مال یا برانڈز کے اسٹور میں سیلز گرل کی جاب ریفر کی جاے تو یہی سننے کو ملتا کہ گھر والے نہیں مانیں گے، لوگ کیا کہیں گے ، کوئی اور جاب بتائیں وغیرہ ۔ تو ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ کس طرح لوگوں کو آگاہی دی جاے کہ سیلز گرل کا روزگار بھی باقی مفید کاموں کی طرح باعزت آمدن کا ذریعہ ہے ۔

سب سے تو یہ بات سمجھنے والی ہے ہے اچھے برانڈز اور اسٹور کسی جسمانی کشش کی بنا پر سیلز گرل کو جاب نہیں دیتے بلکہ ان کی اچھی بات چیت ، پبلک ڈیلنگ ، پرابلم سالونگ ، صبر و تحمل اور اس جیسی دوسری پروفیشنل اہلیت کی بنا پر ہی رکھتے ہیں ۔ صرف خوبصورت و پرکشش ہونا معیار نہیں ہے ۔ اس کا مشاہدہ آپ مختلف اسٹورز کا خود وزٹ کر کے لے سکتے ہیں ۔ دوسری اہم بات کہ سیلز گرل آج کل صرف مجبور و ضرورت مند خواتین ہی نہیں کرتیں بلکہ یہ بھی بہترین کیریئر کا سٹارٹنگ پوانٹ ہے جس میں باقی پروفیشن کی طرح مرحله وار ترقی ملتی جاتی ہے۔

تو میری تمام لوگوں سے خاص کر نوجوان لڑکوں سے گزارش ہے کہ جب بھی آپ کسی اسٹور میں ، گھر دستک دیتی یا راستے سے گزرتی کسی سیلز گرل کو دیکھیں تو اس کو کمتر مت سمجھیں ۔ گھور گھور کر مت دیکھیں ۔ کوئی عامیانہ بات یا کوئی منفی کومنٹ پاس مت کریں ۔ کسی بھی سیلز گرل کا فلرٹ کر کے یا دوستی لگا کر اپنی پروڈکٹ کی فروخت کرنا مقصد نہیں ہوتا اس لئے ان کو اپنی کسی تسکین کے لئے آسان شکار مت سمجھیں ۔

دوسری طرف سیلز گرل سے وابستہ خواتین سے بھی گزارش ہے کہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی یہ ملازمت کرتی رہیں۔ اچھی محنت کرتے اور سیکھتے، اس کیریئر لائن میں آگے بڑھتی رہیں۔ کسی بھی ہراسمنٹ کی صورت میں برانڈز مالکان کو بتائیں کہ اچھے اسٹورز ہمیشہ اپنی سیلز گرلز کا تحفظ یقینی بناتے ہیں ۔ کسی کلائنٹ یا اسٹور کولیگ کی بھی کسی غلط آفر یا بلیک میلینگ کے سامنے بھی کمزور و مجبور نہ بنیں۔

حرفِ آخر اپنے ذاتی مشاہدے ، لوگوں کے عمومی رویے اور کچھ سچے واقعات کی بنا کر جو دکھی دل سے سخت بات کرنا چاہ رہا وہ یہ ہے کہ سڑکوں ،محلوں، گھروں میں چل پھر کر یا کسی شاپنگ مال، سٹور میں کام کرنی والی سیلز گرل ، کال گرل نہیں ہوتی ۔ اس لئے ہمیں اپنی نگاہوں ، باتوں اور سوچوں میں ان کو اچھی عزت دینی چاہیے تاکہ بے روزگاری کے اس دور میں خواتین بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سیلز گرل کیریئر کو بھی اپنا سکیں۔

تحریر : میاں جمشید