اگر حوریں بھی خوبصورت نہ لگیں تو پھر کیا کریں گے

hoor in jannt

کیا وجہ ہے کہ اکثر لوگ صرف خوبصورت لوگوں کی ہی تعریف کرتے ہیں۔ یا پھر اکثر لوگ دوسروں کے کاموں کو ان کی شکل و صورت کے حساب سے سراہتے ہیں؟ اور پھر کیا تعریف کے لئے صرف شکل و صورت کا اچھا ہونا ہی ضروری ہوتا؟ کیا تعریف صرف شکل ، رنگ ، قد ، سمارٹ و سٹائل وغیرہ کو دیکھ کر ہی کی جاتی ہے؟

میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ آج کل حقیقی تعریف کرنا بہت مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ غلط رخ اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ جہاں پر تعریف کا معیار صرف “ظاہری وجود” ہو وہاں پر پھر بہت ساری اخلاقی برائیاں جنم لے ہی لیتی ہیں کیوں کہ جس انسان کی صرف ظاہری شکل و صورت یا جسمانی ہیت کی ہمیشہ تعریف ہو تو وہ انسان پھر اسی کو مزید بہتر بنانے میں لگ جاتا اور یہی غلط رخ ہے جناب، جس کو درست کرنے کی ضرورت۔

تو دوستو ، ہمیں اصل توجہ اپنے کردار ، اخلاق ، سیرت و اچھے عمل کی خوبصورتی پر دینی ہےاور زیادہ تعریف بھی انھیں باتوں کی”کرنی و سننی” چاہئے ۔

حرف آخر یہ کہ ٹھیک ہے اللّه جی خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند کرتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ باقی انسانوں کو پسند نہیں کرتے اور  پھر صرف وہی خوبصورتی پیاری ہوتی جو اس کی بتائی گئی حدود کے اندر ہوں۔ کیونکہ اللّه حد سے تجاوز کرنے والوں کو بھی پسند نہیں کرتا۔

سمجھ آ جائے تو دنیا میں” رب کے احکام اپنی پسند” سے ماننے والوں سے ذرا یہ پوچھیں کہ حوریں ہم نے نہیں دیکھیں پھر بھی یقین کہ بہت خوبصورت ہیں کیوں کہ ایسا “رب” نے کہا ہے۔ مگر وہاں جا کر آپکے لئے مختص کی گئیں حوریں آپکی “نگاہ” کو خوبصورت نہ لگیں تو پھر آپ کیا کریں گے؟

تحریر : میاں جمشید