ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو جانئے اور محتاط رہئے

deepfake technology pakistan

بہت آسان الفاظ میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا مطلب ہے کہ کسی شے کی اتنی گہرائی سے ایسی عمدہ نقل کرنا کہ ہوبہو اصل جیسی دکھائی دے ۔ جیسے کہ کسی کے چہرے کی تصویر یا ویڈیو کسی دوسرے جسم پر ایسے فٹ کر دینا کہ پتہ ہی نہ چلا کہ یہ اصل ہے یا نقل ۔

جب گرافک ڈیزائننگ کے جدید سافٹ ویئر ایجاد ہوۓ تھے تو تب ہر طرف یہ بات مشہور ہو گئی تھی کہ اپنی تصویریں کسی بھی اجنبی کو یا بلا مقصد کہیں شیئر مت کریں ورنہ ان کا غلط استعمال ہو سکتا ہے ۔ یقین کریں یہ ڈر والی بات تو اب اس ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے آنے سے بہت معمولی لگتی ہے کہ پہلی اتنی مہارت نہیں ہوتی تھی اور تھوڑا غور کرنے سے اصل نقل کی پہچان ہو جاتی تھی ۔ مگر اب ایسا نہیں رہا ۔

ویسے بھی پہلے بات صرف جعلی تصویروں تک محدود تھی۔ مگر اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ایک پروگرام “مشین لرننگ” کی بدولت ویڈیوز کا بھی غلط استعمال ہونا شروع گیا اور تبھی سے یہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے ۔

اگر دیکھا جاے تو ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا اب تک کا زیادہ استعمال بلیک میلنگ کے لئے ہو رہا ہے یا فحش فلموں میں استعمال کے لئے ۔ پورن فلموں میں بھی جو مشہور اداکاروں کی ویڈیوز ملتیں، وہ اسی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی بدولت جعلی بنی ہوتی ہیں ۔ جس میں صرف چہرہ ان ایکٹریس کا ہوتا اور باقی جسم کسی پورن ایکٹریس کا ۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی میں نقل اتنی مہارت سے کی جاتی ہے کہ عام بندے کے لئے ویڈیو میں موجود ہستی کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے ۔ پہلے کسی تصویر سے لیا ہوا چہرا کسی ویڈیو میں موجود شخص کے جسم پہ لگایا جاتا ہے اور پھر اس کے چہرے کے تاثرات، حرکات و سکنات کو “مشین لرنگ” کے ذریعے سے کنٹرول کر کے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی ابتدا میں کسی جعلی ویڈیو کی شناخت آسان تھی مگر اب حقیقت کے زیادہ قریب جعلی وڈیوز بنانے کی کوششوں نے پہچاننا دشوار کر دیا ہے۔ چند روز پہلے مشہور ہالی وڈ اداکار ٹام کروز کی جو ویڈیوز وائیرل ہوئی تھیں اس میں موجود شخص کی آواز اور حرکات ٹام کروز جیسی ہی ہیں، مگر اصل میں یہ ٹام کروز نہیں ہے ۔ یہ ڈیپ فیک نامی ٹیکنالوجی کی ایک تازہ مثال ہے۔ اس سے پہلے بھی ایک خبر کے مطابق جنوبی کوریا میں ایپس کے ذریعے ملک کی مشہور خواتین کی فحش فلمیں تیار کر کے پورنوگرافی کے لئے استعمال کی جا رہی تھیں ۔

اس ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی وجہ سے ہی آج کل بہت سارے غیر ملکی ادارے نقلی ویڈیو کی پہچان کے لئے کوئی سافٹ ویئر یا الگورتھم بنانے کی کوشش میں ہیں ۔ اسی حوالے سے اپ ڈیٹ معلومات یہ ہیں کہ اگر کسی مشکوک ویڈیو کو ایک ویب سائٹ counter.social پر اپ لوڈ کیا جائے تو اس ویڈیو کے جعلی ہونے کا پتہ چل سکتا ہے ۔

ہمارے ہاں بھی جلد مشہور ہونے کے چکر میں جو نوجوان مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی ویڈیوز دھڑادھڑ پوسٹ کرتے، ان کو اب محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ان کی اچھی ویڈیوز کا بھی بہت غلط استعمال ہو سکتا ہے ۔ ہمارے ہاں تو اصل نقل کی تحقیق جب تک ہوتی ہے تب تک بندے کی عزت خاک میں مل چکی ہوتی ہے ۔

تحریر : میاں جمشید