اختلاف اپنی جگہ یاری دوستی اپنی جگہ

do friendly talk

میں نے کبھی نہیں چاہا کہ میں ہمیشہ اپنے ہی جیسے رنگ و شکل کے پھول نما لوگوں میں رہوں ۔ مجھے باغ کی طرح مختلف نما پھولوں و پودوں کے درمیان رہنا اچھا لگتا ہے ۔ جس میں جہاں مجھ جیسے بھی ہوں مگر ساتھ ہی بہت مختلف  نظر آنے والے  اور طرح طرح کی خوشبو بکھیرنے والے اور بھی ہوں ۔ تبھی زندگی خوبصورت لگتی  ہے، تبھی ذہن کھلتا ہے  ، مختلف سوچیں آتیں ہیں  جس سے دل و دماغ میں وسعت پیدا ہوتی ہے ۔

تو صاحبو ہم اس دنیا میں مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف ماحول میں رہتے ہیں جس میں ہر بندے کی اپنی منفرد سوچ اور زاویہ نظر ہے ۔ ایک کی کہانی ، واقعہ یا بات کو ہر کوئی مختلف انداز میں لیتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ میری بات سے اگلا بندہ لازمی اتفاق کرے یا میں کسی اور کی بات  کے  ساتھ اختلاف نہ کروں ۔یقین کریں اگر ہم متضاد نہ ہوں تو اس زندگی میں واقعی کوئی مزا نہ رہے ۔

مسئلہ تب بنتا ہے  جب ہم اپنی بات یا نظریہ کو لازمی منوا کر رہنے کی بات کرتے ہیں۔ نظریاتی اختلاف کو اتنا انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں  کہ لٹھ پکڑ کے دوسروں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں  بس ۔ پھر کون کوئی دوست ہے رشتہ دار ہے یا کوئی مخلص ، کچھ یاد نہیں رکھتے ۔ اور یہی صورتِ حال بالکل بھی صحت مندانہ نہیں ہے ۔ تبھی معاشرے میں گالم گلوچ اور تشدد کی فضا پروان چڑھتی اور لوگوں کے درمیان دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ لوگ پھر مثبت تنقید کرنے سے بھی ڈرنے لگتے ہیں جس سے اصلاح کے پہلو میں کمی واقع  ہوتی جاتی ہے ۔

زبردستی تو صاحب ہمارے دین میں بھی نہیں ہے ۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللّه نے یہی تاکید فرمائی کہ آپ لوگوں کی رہنمائی کے لئے صرف تبلیغ کرتے رہیں ۔ کوئی مانے یا نہ مانے آپ اس کے لئے جواب دہ نہیں ہیں۔ تو کیا ہی اچھا ہو کہ ہم بھی اسی سنت کو اپنا لیں۔ چاہے جتنا مرضی پر جوش ہو کر تبلیغ کریں یا اختلاف کریں مگر ایک دوسرے کے ساتھ پیار و رواداری سے ملنے ملانے کا رویہ  مت چھوڑیں ۔

آخر میں اگر میں اپنی ہی مثال دوں تو اپنے ورک پلیس پر ، خاندان میں یا پھر لکھنے لکھانے کے حوالے سے اکثر احباب کے ساتھ فکری و نظریاتی اختلاف موجود ہے، مگر یقین کریں اس کو اپنی ذاتی زندگی میں نفرت و رنجش کا سبب نہیں بننے دیا الحمد للہ ۔ آپس میں ملتے ملاتے ، گپ شپ کرتے ، رابطہ میں رہتے، ہمیشہ  تعلقات کو مضبوطی  سے  تھامے رکھا کہ یار جو بھی ہو اختلاف اپنی جگہ ، یاری دوستی اپنی جگہ۔ کون سا کسی نے ہمیشہ  یہاں رہنا ہے۔

تحریر : میاں جمشید