آپ کی سوچ مڈل کلاس ہے یا امیرانہ؟

how rich people think mian jamshed

اگر یہ کہا جاے کہ دنیا میں ہر بندہ ہی امیر بننے کی خواہش رکھتا ہے تو یہ غلط بات نہیں ہو گی ۔ فرق صرف پڑتا ہے کہ ہم نے ایسی خواہش کرنے کے بعد امیر بننے کی کوشش بھی کی ہے یا نہیں ۔ امیر بننا کوئی بری بات نہیں ہوتی کہ ایسے ہم نہ صرف اپنی زندگی بہترین سے گزار سکتے بلکہ دوسرے لوگوں کے بھی اچھی طرح کام آ سکتے ہیں ۔۔

اگر تو امیری کسی کو ورثہ میں ملی ہو تو تب کیا ہی کہنے جناب ۔ لیکن اگر ہمارے ہاں کوئی کوئی غریب یا مڈل کلاس بندہ امیر بننا چاہے تو ایسا سوچنا بھی بہت بھاری ہوتا ہے کہ امیر بننا واقع آسان نہیں ہوتا ۔ تبھی لوگ امیر بننے کی کوشش جلد ترک کر دیتے ۔ اور جو امیر بننے کا جنوں سر پر سوار کر لیتے تو آخر کار امیر بن ہی جاتے ۔

اگر میں اپنی بات کروں تو ابھی تک اس سونے کی چمچ کی تلاش میں ہوں جو لوگ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں تاکہ کچھ کیے بغیر فوری امیر بن سکیں ۔ تو دوستو، ایسی ہی امیری کی تحقیق کرتے ایک امریکی مصنف “اسٹیو سیوبولڈ” کی مفید و دلچسپ کتاب پڑھنے کو ملی ہے۔ ان صاحب نے دنیا کے مختلف بارہ سو امیر لوگوں کے انٹرویو کرنے کے بعد ہمیں یہ بتایا ہے کہ ” امیر کیسے سوچتے ہیں” اور یہی ان کی کتاب کا نام بھی ہے ۔ تو چلئے میں اب اس تحقیق کی کچھ اہم باتیں آپ کو بتاتا ہوں ۔

امیر آدمی کچھ کرنے میں لگ جاتا ہے جب کہ مڈل کلاس بندہ کچھ ملنے کے انتظار ہی میں رہتا ہے ۔

مصنف اسٹیو سیوبولڈ کی تحقیق کے مطابق مڈل کلاسیا لاٹری لگنے والی ذہنیت کا مالک ہوتا ہے کہ ایک دفعہ لگ گئی تو بس وارے نیارے ۔ اسی انتظار میں وہ اپنا وقت برباد کرتا ہے جب کہ امیر بندہ اپنے موجودہ وقت و وسائل کے ساتھ پیسا کمانے کا خود ساماں پیدا کرنے کی کوشش میں جتا رہتا ہے۔

مڈل کلاس بندہ زیادہ پیسے گھبرا کر جب کہ امیر بندہ خوشی خوشی کماتا ہے ۔

اسٹیو سیوبولڈ کے مطابق مڈل کلاس بندہ پہلے سے ہی یہ سوچ کر جذباتی ہوتا رہتا ہے کہ وہ آخر زیادہ پیسوں کا کیا کرے گا ، بچے عیاشی میں اڑا دیں گے، گھر برباد ہو جاے گا، لالچی پن پیدا ہو گا وغیرہ جب کہ امیر سوچ رکھنے والا زیادہ پیسوں کو زندگی میں ترقی کرنے کا زینہ سمجھتا ہے کیونکہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ اپنی فیملی کو بہترین سہولیات دینا ، دوسروں کے کام آنا ، دنیا گھومنا وغیرہ امیری سے ہی ممکن ہوتا ۔

امیر بندہ مخصوص علم کو جبکہ مڈل کلاس زیادہ تعلیم کو ہی امیر بننے کی وجہ سمجھتا ۔

اسٹیو سیوبولڈ کے مطابق کسی بھی کام کی صرف بنیادی باتوں کا کتابی علم رکھنے کے بعد عملی تجربہ سے امیر بننے کی سوچ مڈل کلاس لوگوں میں نہیں ہوتی ۔ وہ صرف اعلی ڈگری لینے کے بعد ہی امیری ملنے پر یقین رکھتے ۔۔ حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔

امیر آدمی سب سے پہلے اپنا خیال اور مڈل کلاس بندہ پہلے دوسروں کا خیال کرنے پر لگا رہتا ہے ۔

اسٹیو سیوبولڈ کی تحقیق کے مطابق سب سے پہلے اپنے آپ کو خوشحال بنا کر اس کے بعد دوسروں کی پروا کرنا امیر سوچ کی نشانی ہے ۔ بندہ پہلے خود قابل بن جاے اس کے بعد دوسروں کو بھی اوپر لے کر آے ۔ مڈل کلاس لوگوں کی طرح نہیں کہ سب کا خیال رکھتے کرتے جب وہ امیر ہونے کے قریب ہو تو زندگی وفا نہ کرے یا تب امیری کوئی مزہ نہ دے ۔

تو دوستو یہ تھیں جناب اسٹیو سیوبولڈ کی کتاب ” امیر کیسے سوچتے ہیں” کی چند چیدہ چیدہ باتیں جو کہ اب تک پڑھتے ہوۓ مجھے سمجھ آئی ہیں ۔ کیا ہماری سوسائٹی میں بھی سوچ کا یہی فرق ہے کہ نہیں ؟ کیا ان سب پر عمل کرنا آسان ہے یا مشکل؟ کیا ایسی امیرانہ سوچ رکھ کر کوشش کرنے سے امیری حاصل ہو گی کہ نہیں؟ تو مجھ سے ایسے سب سوالوں کے جواب کے لئے ذرا میرے امیر ہونے کا انتظار کیجئے ۔ شکریہ۔

تحریر: میاں جمشید