چھوٹے مدارس کے طالبعلموں پر شفقت کیجئے

love with students

ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ قرآن کریم کو سیکھنے اور سکھانے والے نہایت محترم ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس عظیم کام کو سر انجام دینے کا دنیا و آخرت میں بہت درجہ ہے۔ ویسے تو ان کی عزت و تکریم دینِ اسلام کے آغاز سے ہی ہے، مگر زمانہ قریب ہی کو اگر لیں تو پہلے وقتوں میں کسی چھوٹی مسجد کے مولوی صاحب کی بھی بہت تکریم کی جاتی تھی۔ خاص کر گاؤں کے لوگ تو ان کی خدمت ثواب سمجھ کر کرتے تھے۔ مولوی صاحب کے گھر بار کے اخراجات کی ذمے داری میں پورا گاؤں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ ادھر مولوی صاحب بھی پوری توجہ و اخلاص کے ساتھ مسجد سے منسلک مذہبی فرائض بہترین سرانجام دیتے تھے۔

پھر وقت بدلا اور جہاں پورے گاؤں میں ایک یا دو مساجد ہوتی تھیں، وہاں آہستہ آہستہ ہر گلی میں مسجد بننے لگی۔ اور ایسا ہی شہروں کے چھوٹے علاقوں میں بھی ہونے لگا۔ اور ایسا ہونا برا نہیں ہے کہ نمازیوں کو بھی سہولت ہوتی گئی کہ اب مسجد کےلیے دور نہیں جانا پڑتا۔ لیکن حیرت بس یہ ہوتی کہ اب مساجد پھر بھی مکمل آباد نہیں ہیں۔ جہاں نمازی ایک ہی مسجد میں نماز ادائیگی کےلیے آتے تھے، اب وہ مختلف مساجد میں بکھر گئے۔ اور یہ بھی کوئی معیوب بات نہیں۔ ہر شخص کی مرضی کہ جس مسجد میں دل لگتا، جائے اور اپنی عبادت کرے۔

مگر مسئلہ تب بنا جب مساجد کے اخراجات میں اضافہ ہونے لگا۔ جہاں پورا گاؤں یا کوئی شہری علاقہ اک دو مساجد کی دیکھ بھال کرتا تھا، اب اس پر کتنی ساری مساجد کی ذمے داری آگئی۔ چندہ میں کمی آتی گئی کہ ہر مسجد میں باقاعدگی سے آنے والے نمازی کم ہوتے جارہے تھے۔ اوپر سے ان چھوٹی چھوٹی مساجد میں بھی مسافر بچوں کےلیے مدارس کھلنے لگے، جو ’’طالب‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور یہی طالب میرا اصل موضوع ہیں۔

واضح رہے کہ میں یہاں بڑی مساجد میں زیرِ تعلیم مسافر ’’طالب علموں‘‘ کی بات نہیں کررہا کہ وہاں مولانا صاحبان کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال کا بھی اچھا انتظام ہوتا ہے۔ میری بات ان طلبا کے حوالے سے ہے، جو دور دراز کے علاقوں، کسی گاؤں یا شہروں کے مضافات کے چھوٹے مدارس میں رہتے ہیں۔ ان مسافر طلبا کو یہاں کون چھوڑ کر جاتا ہے، کیسے اپنے گھر والوں سے دور مقیم ہیں، وغیرہ، جیسی باتیں ایک الگ بڑا موضوع ہے، جو فی الحال زیرِ بحث نہیں۔

 چھوٹی چھوٹی مساجد میں بننے والے مدارس میں موجود یہ مسافر طالبان وہی ہیں، جن کے نام پر اکثر بڑی مساجد میں نماز کے بعد کوئی ان کا نمائندہ شخص چندہ کی اپیل کرتا ہے اور مسجد کی آخری صفوں میں رسید بک کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔ لوگ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق مدد بھی کرتے جاتے ہیں۔ پھر اسی چندہ سے چھوٹی مسجد و مدارس کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔ یقین کریں مجھے اس پر بھی بحث نہیں کرنی کہ جب اخراجات کا اتنا مسئلہ ہوتا ہے تو پھر کیوں اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی جاتی ہے اور پھر ساتھ ہی مسافر طلبا کےلیے مدرسہ بھی کھول لیا جاتا ہے؟

مجھے صرف مسئلہ ہے کہ کیا اس طرح کی چھوٹی مساجد والے ان چھوٹی چھوٹی عمروں کے طلبا کی واقعی کوئی اخلاقی تربیت کررہے ہیں؟ ایمان داری سے بتائیں کہ بےحال رہنے والے، مانگے تانگے کے لباس و جوتے پہن کر، لوگوں کے گھر گھر سے روٹی سالن مانگنے والے ان بچوں کی کیا تربیت ہورہی ہے؟ کیا قرآن پاک کے مفہوم کے مطابق وہ شخصی تربیت حاصل کررہے ہیں؟ کیا یہ آگے جاکر معاشرے میں ویسی عزت و تکریم حاصل کرپائیں گے جن کا ذکر میں نے شروع میں کیا؟

یقین مانیے کہ گلی محلوں میں صبح و شام بالٹی اٹھائے گھر گھر جاکر بھوک کا انتظام کرنے والے ان بچوں پر بہت ترس آتا ہے۔ کیا ہمارے اپنے بچے ایسا کرسکتے ہیں؟ کیا ہم ان کی بالٹی میں موجود ویسا مکس سالن کھا سکتے ہیں؟ کیا ان بچوں کےلیے باعزت کھانے کا انتظام نہیں ہوسکتا؟ یہ طالب علم کوئی بھکاری تو نہیں۔ کیا ان بچوں کے ایسے بچپن کے حالات ان کے ذہنوں پر کوئی تاثر نہیں چھوڑیں گے؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ ایسے حالات میں رہتے ہوۓ عمر کے کسی حصے میں کسی نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہوسکتے ہیں؟ زندگی کے عملی میدان میں آکر ادھورے بچپن اور مجروح شخصیت کے ساتھ کیسے پرفارم کریں گے؟

ان طالب علم لڑکوں کےلیے لکھنے کو بہت کچھ ہے۔ ان کے ایسے رہنے سے لے کر ان کی شخصی تعمیر کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے، مشورے دیے جاسکتے ہیں۔ مگر ساری بات آگاہی کی ہے۔ جو ان بچوں کے والدین سے لے کر ان چھوٹی مساجد کے مولوی صاحبان کو دینی چاہئے، جو ایسے بچوں کی تربیت کے ذمے دار ہیں۔ مگر ہم اور آپ بہت زیادہ نہیں تو، اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں۔ اچھے طریقے سے کھانا مہیا کریں۔ اپنے بچوں کو بھی ان کے ساتھ پیار سے بات کرنے کی ترغیب دیں۔ ان کو جیب خرچ دے سکتے ہیں۔ اچھی باتیں اور کام آنے والی دنیاوی تعلیم سکھا سکتے۔ دعا ہے کہ اللہ ایسے مسافر طالبعلم بچوں کو اپنی امان میں رکھے اور ایسے اسباب پیدا کرے کہ ان کی بہترین شخصی تعمیر ہوسکے۔ آمین۔

تحریر : میاں جمشید