ایسی باتیں کہنے سے جب قرآن نہیں شرماتا تو پھر ہم کیوں

quranic words

یہ خوش قسمتی رہی کہ میں نے نویں جماعت  سے ہی قرآنِ پاک کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ جس کا سہرا  میرے مرحوم تایا جان کو جاتا ہے ۔ انہوں نے مجھے روزانہ ایک صفحہ   ترجمہ   اس طرح سمجھایا کہ مجھے قرآن کو ترجمے سے پڑھ کر سمجھنے کا   شوق پیدا ہوتا گیا ۔  مگر ساتھ ہی مجھے ان سے یہ   شکایت رہی کہ جن آیات میں حیض ، ہم بستری ، حمل ، شہوت ، لوطیت ، ماہواری، بد فعلی وغیرہ کا ذکر ہوتا  وہاں انہوں نے مجھے بجائے ان کا مطلب سمجھانے کے ” ابھی اس کو چھوڑ کر آگے بڑھو” کی تلقین کرنی۔ تبھی ان باتوں کو جاننے کا تجسس رہتا ۔ اتنا اندازہ تھا کہ یہ سب شرم والی باتیں ہیں ۔ مگر کیا ان کو جاننا ابھی ضروری نہیں تو پھر کب ؟ افسوس یہ رہا کہ میں یہ سب شرم والی باتیں کبھی اپنوں سے نہیں  جان پایا مگر ” اوروں” نے کچھ ایسے سمجھائیں کہ میں اب کیا بتاؤں آپ کو ۔ یہ کہانی پھر سہی ۔

 ہم سب جانتے ہیں کہ اگر قرآن پاک کو ترجمے کے ساتھ پڑھا جائے تو پتا چلے گا کہ اس میں جنس سے متعلق اکثر باتیں اور واقعات موجود ہیں،جن کو ربِ کریم نے اس لئے بیان کیا ہے کہ ہم پہلے سے ہی جان کر ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مگر   والدین اور اساتذہ کرام  بچوں کو عموماً ایسی آیات کی تشریح بتاتے ہوئے  شرماتے ہیں اور   مطلب سمجھانے کے  بجائے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ابھی یہ سب سمجھنا تمہارے کام کا نہیں، بڑے ہو کر خود ہی پتہ چل جائے گا۔ اور یقین کریں صاحبو کہ ہمارا یہی رویہ غلط ہے کیونکہ بچے فطری تجسس کے مارے بڑے ہونے سے پہلے ہی جاننے و سیکھنے کی طلب میں لگ جاتے ہیں اور اکثر تو بہت بری طرح سیکھتے ہیں۔

 دراصل قرآنی تعلیم و فہم کے برعکس ہمارے ہاں جنسی تعلیم کو بہت منفی طریقے سے پیش کیا جاتا ہے جیسے کہ یہ کوئی بے حیا بنانے والی   چیزہو ۔ کوئی چسکے دار باتیں  ہوں  ۔ جب کہ حقیقی معنوں میں اس سے مراد عمر کے ساتھ ساتھ بچوں میں جو جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں آتی ہیں، ان سے متعلق مسائل سے آگاہی ہے۔ اور یہ والدین کے اوپر حق ہے کہ وہ اپنی اولاد سے ایک دوست کی مانند قریب ہو کر ان سے اس موضوع پر بات کریں۔

بچوں کو ان کی شرم گاہوں کا شعور دینا، ان میں بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ذہن میں پیدا ہونے والی خواہشات اور ان کو لگام دینے کے طریقے بتانا، ماہواری کے ایام ، حمل، مرد عورت کے درمیان ازدواجی تعلقات، نامحرم رشتے اور زنا کے دینی اور دنیوی نقصانات کے متعلق آگاہی ہی درحقیقت جنسی تعلیم ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کی غلط نظروں ، باتوں اور لمس کو پہچاننا اور کسی بھی وقت ایسے حالات سے واسطہ پڑنے  کی صورت میں کرنے والے اقدام بارے بتانا بھی اس تعلیم میں شامل ہے۔ کیا اس سب کے بارے میں آگاہی دینا ہمارا اخلاقی فرض نہیں؟ کیا یہ تعلیم قرآنی تعلیمات و احکامات کے منافی ہے؟

مجھے یاد ہے کہ جب میں میٹرک میں تھا تو ایک محترم عالِم صاحب ماہانہ وار  اسکول میں آ کرجنسی معاملات کے بارے مثبت تعلیم ہمیں کلاس میں آ کر دیتے تھے ۔ جس سے اس عمر میں ذہن میں پیدا ہوتے جنسی سوالات کا  تسلی بخش  جواب مل جاتا تھا ۔ مگر فرقہ واریت کی بنا پر ان بزرگ پر ایسے گھناؤنے الزامات لگائے گئے کہ وہ سلسلہ ہی بند ہو گیا ۔ ظاہری بات ہے کہ جب فرقہ واریت کے چکر میں کچھ اساتذہ کی جانب سے طلبا کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی گئی کہ یہ گندی باتیں کرنے والا مولوی ہے ۔ لونڈے باز ہے وغیرہ تو ان عالِم صاحب کا چھوڑ جانا واقعی ہی بنتا تھا۔ مگر اس سے ہونے والے کرداری نقصان کا کسی کو اندازہ نہیں تھا ۔

آج کل کے ماحول میں جہاں فحش میڈیا تک رسائی آسان ہو ، گلی محلوں ، اسکولز کے علاوہ اپنے گھروں اور رشتہ داروں میں شیطانی ذہن والے لوگ موجود ہوں ۔ جہاں کسی لالچ ، فطری جسمانی تقاضا، یا ڈر کی وجہ سے ہمارے بچوں کے  غلط جنسی کاموں میں پڑنے کا خدشہ ہو وہاں ہمیں ان کو مثبت جنسی تعلیم دینے سے بالکل نہیں شرمانا چاہیے ۔ ان کو اس  تجسس میں نہیں ڈالنا چاہیے کہ وہ اوروں سے اس بارے میں معلومات حاصل کرتے پھریں۔

اس سلسلے میں قابلِ  توجہ بات یہ ہے کہ ایسی تعلیم مخلوط ماحول میں نہ ہو ۔ ماں اپنی بیٹی اور باپ اپنے بیٹے کے ساتھ گفتگو  کرے ۔ تعلیمی اداروں میں بھی مرد اساتذہ ، طالبات سے ایسی باتیں ڈسکس نہ کریں۔ جہاں قرآن پاک میں موجود ایسی باتوں کو مکمل فہم کے ساتھ ان کو سمجھایا جائے وہیں ان کو ایک اعتماد دیا جائے کہ اپنے اندر پیدا ہونے والی جنسی تبدیلیوں  کو آپ کے ساتھ شئیر کر کے مثبت رہنمائی حاصل کر سکیں ۔ اگر ہم  شرم و حیا کو بہانہ بنا کر ایسے معاملات  بارے بات کریں گے  ، تو یقین مانیں کہ اس سے بہترین تربیت کا حق ادا نہیں ہوتا ۔

تحریر : میاں جمشید