خواب دیکھنا خود پر فرض کرلیں

see dreams must

ہمیں جو کچھ بھی حاصل کرنا ہوتا ہے وہ سب سے پہلے سوچ کی صورت وارد ہوتا ہے۔ کیا حاصل کرنا اور کیوں کرنا ہے، اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں سرِفہرست وجہ معاشی حالات ہوتے ہیں۔ اب کچھ افراد تو ’’جیسے چل رہا ہے کام چلنے دو‘‘ کی سوچ لیے، اپنے کمفرٹ زون میں رہتے زندگی گزار دیتے ہیں۔ اور اسی سوچ کا سلسلہ کئی نسلوں تک منتقل ہوتا جاتا ہے۔ مگر کچھ خاص افراد ایسے بھی ہوتے ہیں، جو حالات بدلنے کی خواہش میں تڑپتے رہتے ہیں، کچھ کرنے کا سوچتے رہتے ہیں۔ پھر یہی سوچیں ان کو کھلی آنکھوں خواب دکھاتی ہیں اور یہی زندگی میں بدلاؤ کا پہلا پڑاؤ ہوتا ہے، پہلا سنگِ میل ہوتا ہے۔

 یہ حقیقت ہے کہ اس دنیا میں ہر کسی کو مواقع ملتے ہیں۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ کسی کو کسی نیکی و دعا کے سبب بیٹھے بیٹھائے مل جائے (مگر اس میں بھی فرد کی اپنی نیک نیتی، صبر و کوشش ہوتی ہے) اور کسی کو آگے بڑھ کر موقعوں کو حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ ہمارے تو نصیب میں ہی غریب، فقیر، لاچار وغیرہ لکھا ہوا ہے، تو یہ سوچ غلط ہے۔ اللّه آزمائش لیتا ضرور ہے مگر ہمیشہ اس میں نہیں رکھتا۔ جلد یا بدیر نکلنے کے وسائل و اسباب ضرور مہیا کرتا ہے۔ مگر بات وہی آتی ہے کہ نکلنے کی کوشش کون کرتا ہے۔ کون ہے جو کھلی آنکھوں کے ساتھ خواب دیکھتا ہے۔

دوسری طرف بڑی تعداد ان افراد کی بھی ہے، جن کو کوئی معاشی پریشانی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نوازا ہوتا ہے۔ اور یہی بات اکثر ان کے حق میں بہتر نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے، مگر کوئی خواب نہیں ہوتا۔ کچھ بننے یا کر گزرنے کی آرزو نہیں ہوتی۔ سب کچھ ریڈی میڈ مل چکا ہوتا اور مل رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ پھر کوئی خواب نہ ہونے کی وجہ سے زندگی سے اداس نظر آتے ہیں۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ کمی سی محسوس کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو خواب دیکھنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے، تاکہ کسی جستجو میں لگے رہیں ورنہ فضول یا بے راہ روی سرگرمیوں میں شامل ہوکر اپنی صلاحیت، پیسہ اور وسائل برباد کردیتے ہیں۔ اور جب کچھ باقی نہیں رہتا تو پھر جاکر کوئی خواب دیکھتے ہیں۔ وہ بھی صرف وہ سب واپس پانے کا خواب، جو پہلے تھا مگر اب لٹ چکا۔

ہے ناں حیرت کی بات! بندہ پہلے ہی سب وسائل کی موجودگی میں کچھ بڑا کر دکھانے کا خواب دیکھ لے اور اس کو پانے کےلیے نکل کھڑا ہو۔

اکثر لوگوں سے بات چیت کرتے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس زندگی کو بس گزرانا چاہتے ہیں۔ جینا کوئی کوئی چاہتا ہے۔ لوگوں کو پتہ نہیں کیوں یہ زندگی بوجھ لگتی ہے۔ علم بھی ہے کہ یہ خوبصورت نعمت صرف ایک دفعہ نصیب ہوتی ہے۔ بندہ یہ سوچے کہ کتنا شکر ہے اللہ کا کہ اس نے مجھے پیدا کرکے اپنی تخلیق کردہ کائنات کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ نہ پیدا کرتا تو ہم کیا کرسکتے تھے۔ مگر نہیں جی! یہاں کوئی پریشانی ملی نہیں اور زندگی سے شکوہ شکایات شروع۔ اوپر سے غمناک گانے سننا شروع ہوگئے یا خود کو اداس شاعری میں گم کرلیا۔ حالانکہ جن سوچوں کو ہمیں دعا و کوشش کرتے حل کی طرف لگانا چاہیے، وہ ہم ایسے ہی کاموں میں ضائع کردیتے ہیں۔ چلو بندہ وقتی ایسا سب کرلے مگر مستقل ایسی حالت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔

 ایسی ہی وجوہات کو اپنے اوپر طاری کرلینے سے بندہ زندگی جینے میں پرجوش نہیں رہتا۔ کوئی مقصد نہیں بنا پاتا۔ ایسے فرد سے جب پوچھا جائے کہ چلو یار فلاں کام کرتے ہیں، فلاں کچھ کرکے دیکھتے ہیں، فلاں رسک لیتے ہیں، فلاں جگہ چلتے ہیں، وغیرہ، تو آگے سے کچھ ایسا جواب ملتا ہے: ’’او بھائی جا، اپنا کام کرو جاکر، میں ایسے خواب نہیں دیکھتا‘‘۔

اور ان کی یہی سوچ ان کے آگے بڑھنے، اپنی صلاحیتوں کی پہچان اور ان کے بہترین استعمال میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان کو خود احساس نہیں ہوپارہا ہوتا کہ خواب دینے میں تو کوئی پابندی نہیں ہے، نہ ہی اس پر کچھ خرچ ہوتا ہے۔ ہاں بس سوچنا پڑتا ہے۔ مگر افسوس تو یہی ہے کہ اس افراتفری کے دور میں کسی کے پاس سوچنے کو وقت ہی نہیں رہا۔ سب وقتی فوائد کے حصول، کسی بڑے مقصد کے بغیر ایک ہی دائرے کے اندر صبح و شام گھوم رہے ہیں۔

حرفِ آخر میری آپ تمام لوگوں سے گزارش ہے، خاص کر عام لوگوں سے کہ چاہے آپ عمر کے کسی بھی حصے میں ہوں، خواب لازمی دیکھا کریں۔ چاہے آپ فی الحال بے یارو مددگار ہیں، کوئی وسائل نہیں ہیں۔ کوئی اسباب نظر نہیں آرہے، مطلب جتنے بھی مشکل حالات ہیں، آپ خواب دیکھنا اپنے اوپر فرض کرلیں۔ ایسے ہی آپ کے اندر خواب کو پانے کی تڑپ پیدا ہوگی، جو آپ کو جستجو پر آمادہ کرے گی۔ وسائل و اسباب پیدا ہوتے جائیں گے۔ اور ایسے ہی آپ اپنے خواب کو تکمیل دینے کے سفر پر گامزن ہوجائیں گے۔ پھر گرتے، سنبھلتے مقررہ وقت پر اپنے خواب کی حقیقت کو لازمی پالیں گے۔

تحریر : میاں جمشید