حیا کرتے اپنی آنکھوں میں  بھی حیا لائیں

haya karin

جب فرید نے لفٹ سے باہر نکل کر ساتھ نکلتی ہوئی خاتون کو ہر طرح سے دیکھ کر کومنٹ پاس کیا تو میں اپنے اس ساتھی کی اس حرکت پر جہاں پریشان ہوا،  وہاں حیران بھی کہ کیا وجہ ہے کہ آپ چاہے اچھے ملک کے بہترین ادارے میں کمال کی نوکری کر رہے ہوں پھر بھی پست ذہنیت اور پرانی گندی عادتیں پیچھا کیوں نہیں چھوڑتی ہیں؟ لڑکیوں کو گھورنا، انکو گندی نگاہ سے دیکھ کر اپنی منحوس شکل بنا کر کوئی کومنٹ پاس کرنا ایک ایسی لعنت ہے جو آجکل بہت عام ہو چکی ہے. حیرانی کی بات یہ ہے کہ پہلے ایسے کام جاہل اور ان پڑھ طبقے میں زیادہ تھے لیکن اب پڑھے لکھے، اچھے اداروں میں کام کرنے والے اور شکل سے شریف نظر آنے والے بھی کر جاتے ہیں۔

ایسے لوگ اپنے دفاع میں یہی کہتے ہیں کہ یار ہم صرف دیکھتے ہی تو ہیں کچھ اور تو نہیں کرتے بس مزہ آتا ہے رب کے بناتے ہووے حسن کو دیکھ کر دل خوش کر لیتے ہیں بس. اور بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یار یہ لڑکیاں خود ہی ایسے بن سنور کر باہر نکلتی ہیں کے انکو دکھا جائے ورنہ ایسے ٹائٹ کپڑوں ، کھلے بالوں اور میک اپ کے چہرے کے ساتھ باہر ہی کیوں نکلتی ہیں یہ خواتین .اسی طرح کچھ سادہ بھونڈ باز  تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بھائی پہلے ہم نقاب والی کو نہیں دیکھتے تھے کہ احترم کرتے تھے لیکن آجکل جسے ٹائٹ قسم کے فیشن والے نقاب نکل آے تو ہم سے بھی احترم نہیں ہوتا ان کا اب۔

ایسے لوگ جب پاکستان میں ہوتے ہیں تو پھر بھی ایک حد میں ہوتے ہیں لیکن اگر قسمت انکو دبئی جیسے ملک میں لے آے تو پھر کیا ہی کہنے۔جہاں پاکستان میں صرف  ایک جیسی رنگ و صورت کی خواتین دیکھنے کو ملتی ہیں وہاں دبئی جیسی جگہ میں تو مختلف ملک کی حسینائیں مختلف جلووں میں نظر آتی ہیں ۔اور بس پھر ایسے لوگوں کو دبئی بہت راس آتا ہے۔ جب کوئی گوری چمڑی کی حسینہ اپنے دلکش اور ماڈرن لباس میں پاس سے گزرے یا کہیں دور نظر آ جائے تو اپنی تعلیم ، خاندان ، مذہب ، اقدار وغیرہ وغیرہ سب بھول بھال جاتا ہے ۔

کیا کہا جائے اب ایسی حرکتوں کو دیکھ کر. پہلے ایسے کام بہت کم ہوتے تھے اور لوگ چھپ چھپ کر برے دوستوں کی محفل میں کرتے تھے. پھر روک ٹوک بھی تھی باپ، بھائی ، یا خاندان کا کوئی فرد بھی دیکھ لیتا تھا تو لترول ہو جاتی تھی لیکن اب ایسی باتیں جب کھلے عام گھر میں ڈراموں میں ، فلموں میں ، مارننگ شوز میں فرمائی جانا شروع ہو جائیں تو یہ سب عام لگتا ہے جیسے ہمارے معاشرے کا حصہ ہو اور نئی اقدار ہو. اب تو پڑھے لکھے لوگوں کا زیادہ شوق ہوتا جا رہا ہے۔ رہی سہی کسر موبائل ،  فیس بک ، یو ٹیوب اور دوسری سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے جہاں بھونڈ بازوں کو جی بھر کر مزے لینے کا موقع مل جاتا ہے۔

خواتین تنگ کپڑوں اور ماڈرن بن کر باہر کیوں نکلتی ہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔ خواتین کا پہناوا ، خوبصورت لگنا کس کے لئے ہونا چاہیے یہ ایسی خواتین کو پتا ہے. میرے مخاطب صرف مرد حضرات ہیں کہ وہ اپنا کردار اچھا رکھیں پہلے۔ ایسی بنی سنواری خواتین جو باہر نظر آتی ہیں یہ بھی آزمائش کی ایک  قسم ہے رب کی طرف سے کہ ہم مرد خود کو کیسے بچا کر رکھتے ہیں۔ ایسی آزمائش ہمیشہ ہم مردوں کا کردار پرکھنے کو ہوتی ہیں۔ یقین مانیں کہ اگر مرد اچھے کردار کا ہے تو اس کی گھر میں موجود خواتین بھی پردے والی اور حیا والی ہی ہوں گی۔

دوستو، بڑے گناہ سے بچنے کے لئے چھوٹے گناہ کر لینا اور یہ کہنا کہ صرف دیکھنے سے کیا ہوتا ہے کچھ اور تو نہیں کرتے. یہ سوچ بہت غلط ہے۔ آنکھیں تو دل کا دروازہ ہوتی ہیں۔ جو ہم دل میں لاتے ہیں ہمارا دماغ انہی باتوں کو کروانے کے مختلف راستے نکالتا ہے۔ بڑا گناہ ہمیشہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کی گلیوں سے گزر کر ہی ہوتا ہے، تبھی ہمارا رب فرماتا ہے کہ بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی مت جاؤ۔ اس لئے کچھ حیا کرتے ہوے اپنی آنکھوں میں حیا لائیں اور اپنی سوچ کو بدلیں ورنہ جس گلی، دفتر ، بازار میں آپ کسی اور کی بہن ، بیٹی کو دیکھتے ہیں تو یقین مانیں اسی گلی ، دفتر یا بازار میں آپ کی بہن بیٹی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کو بہت سے بھونڈ باز بے قرار کھڑے ہیں۔

تحریر : میاں جمشید