پاکستان میں ویڈیوز ، کتاب اور دوسری تخلیقات کے لئے کاپی رائٹس حقوق کیسے حاصل کریں

video copyrights in pakistan

کاپی رائٹس کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس گورنمنٹ سے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ کی صورت اپنی تخلیق کی ملکیت کا ثبوت ہو ۔ یہاں پاکستان میں کسی بھی تخلیقی کام کے کاپی رائٹس کے بارے عام لوگوں کی معلومات بہت کم ہیں ۔ اگر ہے تو اتنا پتا کہ شاید یہ کسی وکیل کا ہی کام ہے اور کافی مہنگا پڑتا ہے ۔

اسی غلط فہمی کی وجہ سے بہت سے تخلیق کاروں، خاص کر نیے لوگوں کے کام کو بھر پور شناخت نہ ملنے کے علاوہ اس تخلیق کی آمدن پر بھی فرق پڑتا ہے ۔ حالانکہ آپ کسی بھی ویڈیوز ( لیکچر ، ڈرامہ ، فلم ، ڈاکومنٹری وغیرہ ) کے علاوہ کسی کتاب ، میگزین ، سوفٹ ویئر ، پینٹنگ ، لوگو ، آڈیو بک ، آڈیو میوزک وغیرہ کے کاپی رائٹس کے حصول کا کام کسی وکیل یا کنسلٹنسی فرم کی مدد کے بغیر  خود بھی سرانجام دے سکتے ہیں ۔

اس حوالے سے بات کی جائے تو  پاکستان میں کاپی رائٹس آفس ” آئی پی اؤ پاکستان ” کے نام سے جانا جاتا ہے جس کو مکمل الفاظ میں ” انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن آف پاکستان ” کہا اور لکھا جاتا ہے ۔

IPO Pakistan

Intellectual Property Organization of Pakistan

یہ ادارہ کاپی رائٹس کے علاوہ نئی ایجادات کے لئے پیٹنٹس (Patents) ، بزنس نام سلوگن ، لوگو ، وغیرہ کے لئے ٹریڈ مارک(Trademarks) اور انڈسٹریل ڈیزائن وغیرہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھی سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے۔

تو آئیے ذرا اب میں آپ کو پاکستان میں کاپی رائٹس کے حصول کا طریقہ کار بتاتا ہوں تاکہ آپ یہ کام کسی وکیل یا کنسلٹنسی فرم کی معاونت کے بغیر  آسانی سے خود ہی سر انجام دے سکیں۔

سب سے پہلے درج ذیل ویب سائٹ کو اوپن کیجئے ۔

Website: www.ipo.gov.pk

اب اوپر دائیں جناب موجود مینو بار کو کھول کر اس میں copyrights کے آپشن پر کلک کریں ۔ آگے ظاہر ہونے والی لسٹ میں سے procedure for registration پر کلک کریں ۔ ایسا کرنے سے ایک pdf فائل ڈاون لوڈ ہو گی ۔

اس pdf فائل کو کھولیں گے تو پہلے صفحہ پر درج ذیل چار کاموں کے کاپی رائٹس کے حصول کے لئے ضروریات کی تفصیل ہو گی ۔

آرٹسٹک کام جیسے پینٹنگ ، فوٹو گرافی، تعمیری نقشہ جات ، لوگو وغیرہ

ادبی و آئی ٹی کام جیسے کتاب ، میگزین، کمپیوٹر پروگرام ، سافٹ ویئر وغیرہ

 سنیماٹوگرافک کام جیسے فلم ، ڈرامہ ، گیمز وغیرہ

ریکارڈنگ کام جیسے کسی کوئی آڈیو گانا ، نعت اور اسکی ویڈیو وغیرہ

اسی پی ڈی ایف کے باقی صفحات میں اوپر بتاے کاموں کا الگ الگ Form II اور NOC/Affidavit   بھی موجود ہو گا ۔ جو آپ نے اپنی تخلیق کے حساب سے بھرنا ہو گا جو کہ بہت آسان ہے ۔جس میں اپنے کام ، اپنے اور ٹیم ممبران کے نام و ایڈریس وغیرہ کی تفصیل دینی ہوتی ہے ۔ اس فارم کی تین کاپیز درکار ہوتی ہیں ۔

اب اگلا کام فیس جمع کروانا ہے جس کے لئے آپ کو کسی بنک میں جا کر بنام ڈائریکٹر جنرل آئی پی اؤ ، ڈیمانڈ ڈرافٹ یا پے آرڈر بنوانا ہے ۔ (موجودہ مقرر کردہ فیس بھی پی ڈی ایف میں درج ہے)

اس کے بعد اپنی تخلیق کو جو کہ اگر آڈیو /ویڈیو شکل میں ہے تو اسکو ڈی وی ڈی /سی ڈی /یو ایس بی میں محفوظ کرنا ہے ۔ صرف آرٹسٹ ورک کے سمپل کو کسی دو قومی اخبارات میں شایع ہونا ضروری ہے ۔ اسکے سمپل کی تفصیل بتانے کا آسان نمونہ بھی پی ڈی ایف فائل میں موجود ہے ۔

اب کام آتا ہے اپنی تخلیق کو ، فارم II اور ڈی ڈی /پے آرڈر کو کاپی رائٹس دفتر پیش کرنے کا ۔ اس کے لئے یا تو آپ خود ان کے آفس وزٹ کر سکتے یا کسی کورئیر کمپنی کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس ادارے کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں واقع ہے اور ریجنل دفاتر لاہور ، کراچی اور پشاور میں موجود ہیں۔ ویب سائٹ پر ہی تمام دفاتر کے فون نمبرز کے ساتھ ساتھ فوری رسائی کے لئے ہیلپ لائن نمبرز بھی میسر ہیں۔

کوئی بات سمجھ نہ آے، فارم بھرنے میں کوئی دشواری ہو یا کوئی اور بات پوچھنی ہو تو ہیلپ لائن پر رابطہ کر کے لازمی مشورہ لیں ۔ اول تو جمع کرواتے وقت ہی کچھ مزید نئی چیزیں چاہیں ہوئیں تو آپ کو بتا دیا جائے گا ورنہ بعد میں بھی آپ کو آگاہ کر دیا جاتا کہ فلاں چیز کی بھی ضرورت ہے ۔

سب کام مکمل ہونے کے بعد کچھ عرصہ کے اندر آپ کو کاپی رائٹس سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے ۔ یاد رکھیے کہ کسی بھی تخلیقی چیز کے کاپی رائٹس حقوق حاصل کرنے کے کچھ عرصے بعد دوبارہ حصول کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ حقوق عمر بھر کے لئے تخلیق کار کے نام ہوتے ہوتے ہیں۔

تو جناب امید ہے کہ یہ معلومات تمام لوگوں خاص کر نیے تخلیق کاروں کے لئے بہت مفید ہوں گی ۔ چاہیے آپ کا تعلق ادب ، میڈیا ، آرٹ، گرافکس، آئی ٹی یا پھر کسی اور انڈسٹری  سے ہی کیوں نہ ہو ، اپنے تخلیقی کام کی قدر و حفاظت کروانا آپ کا بنیادی حق ہے ۔ تو پھر ہمت کریں جناب اور مزید معلومات کے لئے اوپر بتائی گئی ویب سائٹ کا وزٹ کریں۔ کچھ سمجھ نہ آے تو ہیلپ لائن پر رابطہ کریں تاکہ اپنی منفرد تخلیق کو، اپنی ہی کوشش سے،  اپنی ملکیت بنا کر بھرپور فائدہ اٹھا سکیں ۔

تحریر : میاں جمشید