خوش رہنے کے لیے یہ چھ کام کریں۔

how to live happy

عظیم مفکر دلائی لامہ کا کہنا ہے کہ خوشیاں ہمیں کبھی ریڈی میڈ نہیں ملتیں، بلکہ ان کو پانے کے لیے ہمیں کوشش کرنی پڑتی ہے ۔ اگر ہم غور کریں تو احساس ہو گا کہ ہمارے شب و روز بھی خوشیاں کمانے کے لیے ہی گزرتے ہیں۔ کہیں ہمیں  ملنے ملانے سے خوشی حاصل ہوتی اور کہیں کھانے کھلانے سے ۔ ہر فرد صبح سے شام کمانے میں اسی لیے جُتا رہتا ہے تاکہ اپنی فیملی کے ہمراہ، خوشحالی کی زندگی بسر کر سکے۔ اپنے بچوں ، عزیز و اقارب کے درمیان خوشیاں بکھیر سکے ۔

مگر اکثر ہمیں لگتا ہے کہ جیسے خوشیاں قسمت سے حاصل ہوتی ہیں ۔تبھی پھر اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ خوشیاں تو نصیب والوں کو ہی ملتی ہیں ۔ ویسے ایک حد تک یہ بات ٹھیک بھی ہے کہ کچھ خوشیوں کے حصول میں ہم مجبور ہوتے ہیں جیسے کہ اولاد ہونے کی خوشی ، صحت یابی کی خوشی وغیرہ ۔ مگر صاحب جی، بہت حد تک خوش رہنا ہمارے اپنے ہاتھ میں بھی ہوتا ہے ۔ کیونکہ اس کا دارومدار ہماری ذہنی کیفیت پر ہوتا ہے ۔ اب آپ جاننا چاہیں گے کہ وہ کیسے ؟ تو پھر آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں ۔

مشکلات کو بوجھ نہیں چیلنج سمجھیے۔

بحیثیت  مسلمان بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ اللّه تعالیٰ نے دنیا کو آزمائش کے لیے بنایا ہے۔ اس نے دنیا و آخرت کو اس لیے بنایا کہ پتاچل سکے کہ کون اچھے کام کرتا ہے اور کون بُرے ۔ تو ان باتوں کو سمجھتے ہوۓ ہمیں ہر مشکل کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کرنا چاہیے۔ وقتی پریشانی و اداسی چل جاتی ہے کہ ہم کوئی روبوٹ نہیں کہ کسی احساس سے عاری ہوں مگر مستقل طور پر خود کو فکر مندی میں مبتلا کرنا عقل مندی نہیں ۔ کیونکہ ایسی فکر مندی ہمیں خوش نہیں رکھ سکتی۔

تنقید کو در گزر کریں ۔

 ٹھیک ہے کہ ہمیں لوگوں کی اکثر باتیں یا ان کا منفی رویہ برداشت نہیں ہوتا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو اپنے سر پر سوار کر کے  اپنا موڈ خراب کیا جائے ۔ اور ساتھ ہی اس منفی رویے کا اثر فیملی یا کام پر بھی اثر انداز ہو ۔ اس لیے ہمیں کسی تنقید پر فوری ردِ عمل سے گریز کرنا چاہیے ۔ دوسرے نے جو کہا اس پر آپ کا قابو واقعی نہیں ہے مگر آپ نے آگے سے کیسا رویہ دکھانا ہے یہ تو آپ کے بس میں ہے ۔

کام ، تفریح اور رشتوں میں توازن رکھیں ۔

آپ نے اکثر نوٹ کیا ہو گا یا شاید آپ خود بھی ایسا ہی کرتے ہوں کہ پورے دن کا سارا وقت کام میں گزار دیا ۔ فیملی اور بچوں کو پورا وقت نہ دیا ۔ اوپر سے کسی نے کام کے درمیان ڈسٹرب کر دیا تو لگے چِلّانے اور غصہ کرنے ۔ یا پھر زیادہ تر وقت تفریح میں گزار کر وقت ضائع کر دیا ۔ اس کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں ایک ڈسپلن اور روٹین بناتے اپنی روزمرہ زندگی میں ترتیب اور توازن لانا ہو گا ۔ ہم کام بھی کریں، صحت کا بھی خیال رکھیں ، فیملی کو بھی وقت دیں اور بھر پور نیند بھی لیں۔

مسکراتے اور حوصلہ افزا ماحول میں رہیں ۔

ہماری طبیعت پر اچھا یا برا اثر ان لوگوں کی وجہ سے پڑتا ہے جن کے حصار میں ہم اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں ۔ ہنستے مسکراتے لوگوں کے درمیان خود کو رکھنے سے جہاں بہت حوصلہ ملتا ہے وہیں پر ہماری طبیعت بھی خوش گوار رہتی ہے ۔ یاد رہے کہ لوگ رونے والوں یا اداس رہنے والوں کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے اس لیے خوش رہنے کے لیے ہنسانے والے دوستوں کا ساتھ بھی ضروری ہوتا ہے۔ تبھی پھر ڈپریشن ، ذہنی دباؤ وغیرہ سے بھی دوری رہتی ہے ۔

ماضی و مستقبل کی بجائے آج میں رہیے۔

کہا جاتا ہے کہ مرتے وقت ہمارا اثاثہ بس یہی ہے کہ ہم نے کھایا کیا ، پہنا کیا اور اعمال کیسے کیے ہیں ۔ ہمارا ماضی جتنا بُرا تھا اس کی فکر سے تھوڑا تھوڑا کر کے ہمیں آزاد کرنا چاہیے ۔ ماضی میں رہنا ہمارے آج کو خراب کرتا ہے اور اس کا اثر ہمارے مستقبل پر پڑتا ہے ۔ کیونکہ ہمارے کل کا دارومدار آج کی محنت و رویہ پر ہوتا ہے ۔

 دینے والا ہاتھ بنیں۔

 ہمیں زندگی میں بانٹنا لازمی آنا چاہیے ۔ ضروری نہیں ہوتا کہ اگر ہم خالی جیب ہیں تو منہ پُھلاتے نظر آئیں ۔ اگر کچھ نہیں بھی ہے دینے کو تو مسکرا کر انکار کریں ۔ یا کسی کے لیے کوئی ایسا کام جس میں ہماری کوئی صلاحیت استعمال ہوتی ہو یا وقت لگتا ہو ۔ صرف پیسہ  خرچ کرنا ہی لوگوں میں آسانیاں تقسیم کرنے کا سبب نہیں ہوتا۔ اکثر لوگوں کو ہمارا پیسہ  نہیں بلکہ ہمارا وقت چاہیے ہوتا ہے ۔ اب تو ایسی افراتفری کا عالم ہے صاحبو کہ انسان  دوسروں سے باتیں کرنے کو ترستے ہیں۔

 تو دوستو! یہ تھے وہ چھ خاص کام جن پر ہمارا مکمل اختیار ہوتا ہے اور اس کا اپنانا یا نہ اپنانا ہماری خوشیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ یہ سب کوئی حتمی عمل نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس اور بھی راستے ہوں خود کو خوش رکھنے کے، تو ان کو اختیار کرتے  ہوئےاپنے   آپ کو خوش باش رکھیں ۔

تحریر : میاں جمشید