اِک جندری میری ، سو خواہشاں

life dreams

کسی بھی دلی  ٹوٹ پھوٹ کے بعد  تھوڑی مایوسی  طاری ہونا ، دل اچاٹ ہو جانا، کسی سے بات کرنے ، ملنے کو دل نہ کرنا ، ایسا سب ہونا عام بات ہے ۔سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔ نہیں رہا جاتا  ،اب ہر وقت مثبت ۔  اکثر ہوتا ہے کہ کوئی نصیحت سننے کو  دل نہیں کرتا ۔ بس  اپنا من چاہا  حاصل کرنے کو دل کرتا بس۔ “فلا ں کو یہ حاصل ہے  تو مجھ کو کیوں نہیں ، میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے “جیسی سوچیں ہم انسانوں کو ہی آتی ہیں ۔ ہم کوئی مشین ، روبوٹ  یا کھلونا تو ہیں نہیں۔ یا ہم اندر سے لوہے ، فولاد ، پتھر کے تو نہیں بنے ہوئے  کہ ہر مشکل حالات کو چپ چاپ سہہ جایں ۔  اداسی نہ ہو، رونا نہ آئے  اور سب  کچھ آسانی سے برداشت  ہو جائے ۔ایسا سب وقتی  محسوس ہونا  تو چلتا ہے مگر ،خیال رہے کے مستقل نہ ہو بس۔

بات یہ ہے دوستو ،کہ خواب اور خواہشات  کا ساتھ ہر زندہ انسان کے ساتھ ہے ۔ چاہے کوئی امیر ہو یا غریب، معذور ہو یا تندرست  ۔ ہر کوئی ڈھیر سارے خواب اور خواہشات  اپنی سوچیں میں سجائے رکھتا ہے ۔ ۔جہاں کسی کو  اپنے مطابق پانے میں برسوں لگ جاتے ہیں وہیں  ایسے بھی ہوتے جو دنوں و ہفتوں میں من چاہا پا جاتے  ہیں ۔ اور اکثریت ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ ادھورے ہی رہ جاتے ہیں ۔ کچھ کے لیے سب نصیب کا  لکھابن جاتا ، کسی کو محنت و کوشش میں کمی و بیشی لگتی ۔جہاں ایک بندہ  کسی چیز کو پانے کا ابھی سوچتا اور آج ہی پا لیتا   تو  دوسرے بندے کو وہی چیز پانے کو پتہ نہیں کتنے جتن  ، کتنا انتظار کرنا پڑتا ہے  ۔کسی کو پانچ  ہزار کی شے لینے کو  سوچنا تک نہیں پڑتا اور کسی کو پانچ ہزار جوڑنے میں پتہ نہیں کتنے مہینے صبر کرتے  اکھٹا کرنے کو اپنا من مارنا پڑتا ہے ۔ کوئی مہنگی شے کو کچھ استعمال کر کے بھول جاتا اور کوئی اسی چیز کو برسوں سنبھالے رکھتا کہ ا س کے حصول کی ہر کوشش میں اتنی اپنایئت شامل ہوتی کہ اسے پھینکنا گوارہ نہیں لگتا۔

ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہر بندے کی خواہش پوری ہونا، یا سب ہی خواہشات کا پورا ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ ہر بندہ کے خواب ، خواہشات و چاہنا  مختلف ہوتا ہے ۔ ایک ہی خواہش کسی کے لیے عا م سے ہو گی اور کسی دوسرے کے لیے بہت ہی خاص ۔ کوئی معمولی شے سے بھی بہت خوش ہو جا تا ہے اور کوئی بہت کچھ پا کر بھی خالی رہتا ہے ۔ضروری نہیں جو آپ کو اچھا لگتا ہے یا جو آپ پانا چاہتے ہوں ویسا ہی کوئی دوسرا بھی  چاہے ۔اس لیےمادی لحاط سے  اپنے آپ کا کسی دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنا  کوئی اچھی روش نہیں ہے ۔آپ کو لگتا ہے کہ جو آپ کے پاس نہیں وہ فلاں کے پاس کتنی آسانی سے ہے ۔ کیا پتہ وہ کسی اور مشکل کا شکار ہو، کسی اور شے کی طلب میں بے قرار ہو، وغیرہ ۔

یقین مانیں  صاحبو، کہ خواب  دیکھنا اور خواہشات رکھنا کوئی بری بات نہیں ہوتی ۔ یہ سب ہی آپ کے اندر جینے کی امنگ پیدا کرتی ہیں ، کچھ بننے کا حوصلہ دیتی ہیں ۔ یہ سب نہ ہو تو ہم کبھی بھی آگے نہ بڑھ سکیں ۔ فرق پڑتا ہے کہ کیا ایسا سب کچھ آپ کی صرف سوچو ں میں ہے یا آپ نے ان کو حاصل کرنے کے لیے کوئی عملی قدم بھی اٹھایا ہے ؟کتنی کی جدوجہد کی ہے ؟ ناکامی کے بعد دوبارہ سے کوشش کی بھی کہ نہیں ؟ہم میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کو کچھ پانے کے لیے باقاعدہ  پلاننگ سے کوشش کرنی پڑتی ہے ۔ ۔فوری کامیابی ملنا بالکل ضروری نہیں ۔ بار بار گر کر اٹھنا پڑتا ہے ۔  ایک  ایک کر کے حاصل کرنا پڑتا ۔ اور اگرآپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ  کا اپنا آپ  قیمتی نہیں ہے۔ آپ کو یہ زندگی  ،اپنا ہونا سب بے کار لگتا ہے ۔ آپ کو جینے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ وغیرہ۔ ۔ ۔ تو ایسا مستقل سوچ رکھنا بہت ہی بری بات ہے صاحب۔پوری کوشش کریں کہ اپنے خوابوں و خواہشات کو حقیقت پسندانہ ، معیاری اور کم رکھیں۔ حرفِ آخر یہ کہ۔ ۔

” اِک جندری میری ، سو خواہشاں۔ ۔ ۔ اِک اِک میں پوری کراں “

تحریر : میاں جمشید