اداسی و پر یشانی میں آخر بندہ کیا کرے؟

how to control sadness

بعض دفعہ ہمیں اداسی ، پریشانی ایسے گھیر لیتی اور  اتنا بےچین کر  دیتی کہ کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کریں کہاں جائیں کہیں دل نہیں لگتا بس جی چاہتا کوئی ایسی دوائی کی طرح چیز ہو کہ بندہ کھاے اور فٹ پریشانی ، درد ، اداسی وغیرہ دور ہو جائے۔ کاش ، کاش ، کاش ، کتنا برا ہوتا ہے نا حال تب۔ ۔ ۔ ۔ چلو آؤ میں ذرا آزمودہ حل بتاتا ایسی حالت سے باہر آنے کا۔

گھر کی کسی سکوں سے جگہ پر جائیں جہاں خاموشی ہو اور آپ کی پسند کی جگہ ہو یا باہر پرسکوں ، پارک ، گلی وغیرہ اور خود سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ ساری پریشانی ، اداسی کی باتیں اپنے آپ سے کہیں، رونا آے تو روکیں نہیں خوب رویں۔ سب گلے شکوے اپنے آپ سے کہتے جائیں جو برا لگا، کسی نے کچھ کہا ،دل دکھایا ، مالی، گھریلو ، آفس کی مطلب کوئی بھی پریشانی سب بول دینا۔ ہر بات بار بار دہرا کر ساتھ میں یہ ضرور کہتے جانا اللّه جی پلیز مدد فرما دیں کوئی بہترین برکت والا حل نکل دیں۔ بار بار کئی بار کہنا ۔

آپ محسوس کرو گے کہ کچھ وقت بعد آپ پرسکوں ہونا شروع ہو جاؤ گے، بولنا کم ہو جائے گا اور آنسو رکتے جائیں گے اسکے بعد آپ کو مختلف حل ، راستے سوچوں کی صورت میں آنا شروع ہو جائیں گے اورجو  حل بار بار سوچ میں آے وہی برکت والا ہو گا۔ اس کے علاوہ کسی قسم کی  پریشانی میں صبر اور نماز سے مدد لیا کریں اس سے بہترین حل کوئی نہیں ہے۔

دوستو، یاد رکھیں کہ کمزور ہونا ، ڈر جانا ، اداس ہونا اور رو دینا سب فطری باتیں ہیں ، آدمی جتنا بھی مضبوط ہو ان تمام حالتوں سے ضرور گزرتا ہے فرق صرف یہ کہ کچھ لوگ ہمت کر کے اپنے آنسو پونچھ کر ، چہرے پر مسکراہٹ سجا کر  اور رب سے دعا کرتے دوبارہ نکل پڑتے اپنی منزل کی طرف اور کچھ لوگ ان حالتوں کے سیلاب میں ایسے  بہہ جاتے کہ کچھ تو راستے میں ہی خشک ہو جاتے یا آخر میں مزید  پریشانیوں کے سمندر میں جا کر گر جاتے اور اپنا نام و نشان کھو دیتے ہیں۔

آپ سب وعدہ کریں خود سے کہ آپ پہلے والے انسان ہی بنیں گے بس، کچھ بھی ہو جائے۔  چلو پھر شاباش بہت ہو گیا رونا اور آنسو پونچھ کر  بڑھو اس راستے پر  کہ جس کے اختتام پر خوبصورت منزل تمہاری منتظر ہے ۔

تحریر : میاں جمشید