خود پر بے یقینی کا خاتمہ کیسے؟

how to overcome uncertainty

بعض دفعہ ہم با صلاحیت ہو کر بھی آگے نہیں بڑھ پاتے جس کی بنیادی وجہ ہوتی ہے ” خود پر بے یقینی” ، ہمیں اپنی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد نہیں ہوتا۔ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا اوراپنے آپ کا حوصلہ نچورنے والی سوچیں ہمارے ذہن میں جمنا شروع ہوجاتی ہیں۔ جو فرد کامیاب ہونا چایتا ہے اس کو خود پر بے یقینی کی کیفیت پر قابو پاتے پاتے ختم کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ ناکامی ہونے سے زیادہ یہ والی کیفیت ہی ہمارے خوابوں کو روند دیتی ہے جس سے پھر ہم مزید ڈپریشن میں آ کر اپنا حال اورزیادہ خراب کر لیتے ہیں ۔

تو جناب اگرآپ بھی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہوے بھی بے یقینی کی حالت میں ہیں اور کھل کر لوگوں کے سامنے اپنی صلاحیتوں کے اظہار سے ججھکتے ہیں تو میرا آج کا آرٹیکل آپ کے لیے ہی ہے ۔ میں آپ کو صرف ” 6 ” کام ایسے بتاوں گا جس پر عمل کرنے سے آپ کواپنی صلاحیتوں کے بھربور اظہار پر بہتری آے گی ان شااللہ ۔ چلیں پھر تیار ہو جایں میری آگے ترتیب دی گئی چھ باتوں کو حرف با حرف با سمجھ پڑہنے اور پھر بہترین سے عمل کرنے کے لیے۔

زیادہ سوچنا چھوڑ دو

سوچنا اچھا ہوتا ہے مگر اپنی منفی سوچوں کا غلام بن جانا بالکل بھی اچھا نہیں۔ کیوں قیدی بنا لیتے خود کو اپنی سوچوں کا؟؟ اس صورت سے نکلنے کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ خود کو باور کروایں کہ آپ حد سے زیادہ سوچ رہے ہو۔ اپنے دماغ کو آرڈر لگایں ذرا کہ “رک جاو، کیوں فضول میں اتنا سوچے جا رہے ہو۔ وقفہ کرو ذرا”۔ اپنے آپ کو شعوری حالت میں لے کر آیں ذرا۔ اور اپنی صلاحیت پر مثبت خیال رکھ کر فوکس کریں۔

 لوگوں کا کیا۔ ۔ ۔ فرمانے دو

اگر آپ اپنی اچھی صلاحیت والے ہر کام کو کرنے سے پہلے یہ سوچیں گے کہ فلاں پتہ نہیں کیا کہے گا، فلاں میرا مذاق اڑاے گا، فلاں یہ کہے گا، وہ کہے گا تو سمجھ لیں کہ آپ خود پر قابو پانے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہمیں اپنی صلاحیت کے بہتریں استعمال کو کسی دوسرے کے کہنے پر روکنا نہیں چاہیے ۔ جب ہم ہر فلاں فلاں کے کچھ سوچنے اور کہنے کو جب قابو نہیں کر سکتے تو پھر فضول میں پریشان ہونے کا کیا فائدہ ؟؟ ویسے بھی یہ صرف ہمیں لگ رہا ہوتا ہے کہ ہر کوئی ہمیں نوٹس کر رہا ہے۔ ۔حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ اور اگر کوئی کر بھی رہا ہو تو پھر ہمیں اور اچھے سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنا چاہیے تاکہ پتہ چلے سب کو کہ ہم واقعی میں ” کچھ خاص” ہیں ۔

 صلاحیت ۔ ۔ کبھی دھوکہ نہیں دے گی

اپنے آپ پر اگر اعتماد کھو بھی رہے ہو ، پھر بھی اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتبار رکھنا، ان پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنا کہ کہ آپ  ان کو جب بھی آزماو گے وہ آپ کو  دھوکہ نہیں دیں گی۔ صرف اتنا کرنا کہ منفی سوچوں کو قابو کر کے رکھنا، اپنے خیالات پر کڑی نظر رکھنا۔ خود کو ایسے لوگوں کے درمیان میں رکھنا جو آپ کو حوصلہ دے سکیں ، آپ کو سراہیں اور دلجوئی کریں ۔ یاد رکھنا ہے کہ پہلے آپ کو  خود سے لڑنا پڑے گا اپنے آپ کو منوانے کے لیے۔

لکھتے رہو۔ ۔ جو خوبی ہے ، جوپایا ہے

یہ کام تو لازمی کرنا ہے کہ اپنے اندر خوبیاں ہیں ، جس صلاحیت پر سراہا گیا ہے ، اسی حوالے سے جب جب تعریف ہوئی ہے ، کیا کچھ حاصل ہوا ہے ۔ سب لکھنا ہے پھر ایسی جگہ رکھنا ہے جہاں سے اسے آسانی سے بار بار پڑھ پاو، خاص کر اس وقت جب بے یقینی کا شکار ہونے لگو۔ تب ایسا سب پڑہنے سے ، وہ سب یاد کرنے سے نیا حوصلہ ملے گا، ذہن مہں مثبت سوچیں آئیں گی ۔ آپ کو لگے گا کہ آپ کافی کچھ اچھا حاصل کر چکے ہو، بہت سارے لوگ آپ کی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں اور آپ کو اسی حوالے سے پہچانتے ہیں ۔ اس طرح آپ دیکھنا کہ جلد ہی بے یقنی کی کیفیت سے باہرآنا شروع ہو جاوگے ۔

کچھ خاص و منفرد کرنا۔ ۔ جاری رہنا

بے یقینی کی کیفیت میں بھی خود کو اپنے کرنے والے کام سے روکنا نہیں۔ بے شک آہستہ ہو جانا، دل نہیں بھی کر رہا پھر بھی تھوڑا تھوڑا ہی سہی مگر کرنا ضرور ہے ۔ رک جاو گے تو بے یقینی اور زیادہ بڑھنے لگے گی۔ مزید منفی سوچیں دماغ میں جگہ بناتی جایں گی۔ آپ نے اپنی بے یقینی والی کیفیت کو گزرنے دینا ہے مگر خود کو اسکے ساتھ بہنے نہیں دینا۔ ایسا تب ہونا جب آپ رک جاو گے۔ اس لیے خود کو روکنا نہیں۔ اپنی تخلیقی قوت کا استعمال کرتے جانا اور چھوٹے چھوٹے قدموں ساتھ آگے بڑھتے جانا۔  

 آج اور ابھی میں رہنا۔ ۔ اور سوچنا

آپ کو شاید احساس نہ ہوتا ہو مگر ہمیں بے یقینی زیادہ تبھی ہوتی ہے جب ہم ماضی میں رہ جاتے ہیں ۔ پہلے ہوئی کسی ناکامی سے اور لوگوں کے منفی طنز اور رویوں سے سہمے ہوے ہوتے ہیں ۔ ” پھر سے ویسا نہ ہو جاے” کی بات سے  ڈرتے ہیں ۔ مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا، گزر جاتاہے ۔ سب پہلے جیسا ہی ہو، بالکل بھی ضروی نہیں ہوتا۔ پہلے سے حاصل کیا سبق یاد کرتے، دوبارہ سے اچھی پلاننگ کرتے قدم بڑھانا ہی پڑتا ہے ۔ ایسا اسی صورت ممکن جب آپ ” آج اور ابھی” کے لمحہ میں رہ کر سوچیں اور پلان کریں۔

تو دوستو، یہ وہ سب خاص باتیں ہیں جن پر آپ عمل کر کے خود کی صلاحیتوں پر ہونے والی بے یقینی والی کیفیت پر قابو پا سکتے ہیں ۔حرف آخر یہ اہم بات بھی یاد رکھیں کہ دوسرں ساتھ مثبت موازنہ کرنا اچھا ہوتا ، آپ کو بھی ویسا ہی یا اس سے زیادہ بہترین بننے کی تحریک ملتی مگر حاسدانہ موازنہ نہ ہو۔ زیادہ اچھاتو  یہی کہ صرف اپنے آپ ساتھ موازنہ کریں ۔ اپنے آج کو گزرے کل ، پچھلے مہینہ یا سال سے اچھا بنایں ۔ اپنی “دوڑ “دوڑیں بس۔ اپنے رب سے دعا کیا کریں کہ وہ آپ کی کمی و کوتاہیوں کو دور کرنے میں آسانی پیدا فرمائے۔ آمین۔

 تحریر : میاں جمشید